ٹیلنٹ ایوارڈ2017 بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

روداد ، جائزہ  تقریب ٹیلنٹ ایوارڈ2017

بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

زیر اہتمام گوجر فاؤنڈیشن پاکستان (رجسٹرڈ)    رپورٹ: عبدالمجیدصدیقی

روداد تقریب

پس منظر :

گوجر فاونڈیشن کا قیام سال 2014 میں آیا۔ قیام کے آغاز کے ساتھ ہی فاونڈیشن نے طے شدہ اہداف احسن انداز میں کرنے کے لیے دور جدید کے تقاضوں کے پیش نظر اپنی مختصر سی ٹیم کے ساتھ شعبہ تعلیم کو اپنی اولین تر جیحات میں میں رکھتے ہوئے بغیر کسی سرمایہ کے کام کا آغاز کر دیا۔ قیام کے پہلے سال سے ہی شعبہ تعلیم میں برادری کے ہونہار طلبہ کے اعزاز میں تقریب منعقد کر کے ایوارڈز سے نوازا جانے لگا۔ان تقریبات میں قوم کی سیاسی، مذہبی، علمی اور سماجی نامور شخصیات کی رہنمائی میں ایوارڈز کی تقسیم کے زریعے نئی نسل کی سوچ، اعتماد اور ویژن کو بدلتے ہوئے وقت سے ہم آہنگ رکھنے کی اہمیت کو محسوس کیا۔ تب سے یہ سلسلہ بہتر سے بہتر انداز میں آگے بڑھتا گیا اور آج 2017 میں یہ شعبہ فاونڈیشن کے دیگر شعبہ جات پر سبقت حاصل کرتے ہوئے عوامی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کامیاب سفر کا سہرا چیئرمین فاونڈیشن اور ان کی مختصر مگر پُر عزم ٹیم کے سر جاتا ہے۔ قومی شعور، آگاہی، آگے بڑھنے کی جستجو اور کامیابی کے اس سفر کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تقریب کے پہلے سال ایوارڈ یافتہ بچوں کی تعداد تقریباً 120 تھی اور ہر سال اس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ڈھائی سو کی تعداد تک چلا گیا۔ تقسیم ایوارڈ کا تسلسل قائم رکھتے ہوئے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی 5 نومبر 2017 کو راولپنڈی آرٹ کونسل میں ٹیلنٹ ایوارڈ کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

ایونٹس:

ٹیلنٹ ایوارڈ کی تقریب میں بذیل ایونٹس شامل تھے:

نعت و تقریری مقابلہ، ڈاکومنٹری، گوجر اٹلس، گوجری نظم، خطابات، تقسیم ایوارڈ

تقریب کا آغاز:

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت علامہ محمود تبسم نے حاصل کی اور فیصل چودھری نے نعت رسول مقبول ﷺ پڑھ کر حاضرین کی داد وصول کی۔ سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں شفیق الرحمان چودھری نے سنبھالیں۔

نعت و تقریری مقابلہ:

تلاوت و نعت کے ساتھ ہی تقریری مقابلہ شروع کیا گیا جس کی میزبانی کے فرائض ابرار حسین گوجر نے ادا کیے۔ مجموعی طور پر بچوں میں انتہائی دلچسپ تقریری مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ اس مقابلہ کے لیے ججز کا تقرر کرنل (ریٹائرڈ) بشارت علی نے کیا اورتقریری مقابلہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم دانیال یاسر کے نام کا اعلان بھی انھوں نے کیا۔

صدرِ تقریب :

چوتھی گوجر فاونڈیشن ٹیلنٹ ایوارڈ 2017 تقریب کی صدارت کرم حسین چودھری، سابق لارڈ میئر یوکے، کر رہے تھے۔

مہمانان خصوصی :

مہمان خصوصی ملک ابرار احمد ایم این اے، چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور کشمیر تھے۔ جب کہ ان ساتھ بطور مہمان خصوصی محترمہ مائزہ حمید، ایم این اے، پروفیسرڈاکٹر ریحانہ کوثر آزاد کشمیر یونیورسٹی بھی تشریف فرما تھیں۔

خطبہ استقبالیہ :

کرنل ریٹائرڈ بشارت علی ممبر،ایگزیکٹوکونسل گوجر فاونڈیشن پاکستان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور آنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید بھی کہا۔

مقررین:

سٹیج پر براجمان مہمانان مقررین میں ملک ابرار احمد ایم این اے، چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور کشمیر، محترمہ مائزہ حمید، ایم این اے، کرم حسین چودھری، سابق لارڈ میئر یوکے، پروفیسرڈاکٹر ریحانہ کوثر آزاد کشمیر یونیورسٹی، ملک محمد طاہر، چیئرمین گوجر یوتھ فورم اسلام آباد، چودھری طارق محمود، سابق چیئرمین گوجر یوتھ فورم پاکستان، معظم علی  زاہد، گوجر یوتھ فورم اسلام آباد، گوجر فاونڈیشن کے چیئرمین عطاءالرحمٰن چوہان شامل تھے۔

جب کہ گوجر ہسٹاریکل ریسرچ کے سربراہ چودھری فاروق بیِٹن نے ڈاکومنٹری کے زریعے دنیا کے مختلف ممالک میں آباد گوجر قبائل سے متعلق تاریخی حقائق سے حاضرین محفل کو روشناس کرایا۔ حال میں تشریف فرما چودھری شوکت حسین راہی، صدر معلم پریم کوٹ ہائی سکول مظفرآباد نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے خطاب بھی کیا۔

دوران تقریب چودھری بشیر گورسی، گوجر یوتھ فورم کے رہنما سہیل مہدی اورچوہدری لیاقت علی سٹیج پر موجود رہے۔

 

 

زعماء:

اس تقریب کے موقع پر برادری کے معززین مظفر آباد سے چوہدری زاہد حسین ڈائریکٹر KIMS، قاضی ظہور احمد پرنسپل سٹاف آفیسر، ابرار حسین اسٹنٹ ڈائریکٹر ، محمد سفیر شمس ،پنڈی گھیب سے چوہدری شفیق مدنی، چوہدری منطور حسین، نذیر حسین چوہدری ڈائریکٹر، راولپنڈی سے ڈاکٹر شفاعت ،انوار الحق کھٹانہ، انجنیئر محمد طارق، چوہدری خیام طائر، محمد رشید کراچی سے ساجد گوجر چیف ایڈیٹر گوجر رابطہ ، کوٹلی سے قاضی محمد بشیر،میجر (ر) محمد تاج چوہدری ، محمدحبیب چوہدری، فدا حسین، میرپور سے چوہدری عرفان صابرایڈوکیٹ ، میاں وسیم افضل، اسلام آباد سے چوہدری منیر حسین سابق جج، چوہدری شفقت علی اسٹنٹ ڈائریکٹر نیب،چوہدری ابرار حسین ، ملک وقار احمد ،چوہدری آفتاب اقبال، گوجرانوالہ سے چوہدری محمد ریاض گوجر، افضال الحق، راولاکوٹ سے غلام حسین گوجر، حویلی کہوٹہ سے شکور چوہدری، وزیر محمد گورسی، شفقت حسین ، ٹیکسلا سے حاجی محمداشرف،محمد سلیم ساحل، ملک میر زمان ، عارف بصیروی، پشاورسے محمد صاحب الحق کھٹانہ، ہٹیاں بالا سے محمد عظیم گوجر، مانسہرہ سے عبدالقدوس ہزاروی گجر،سردار ضیاءالرحمن گوجر،قاری شفیق الرحمن، باغ سے ساجد اسلم گجر، ناروال سے خرم طفیل ، مزمل احمد، ہری پور سے یاسر محمود، محمد زمان،قاضی حفیظ الرحمن، فیصل آباد سے محمد شمائل ، محمدانصر گوجر، جھنگ سے محمد جمیل احمد اور گوجر خان سے محمد ذولفقار سمیت کثیر تعداد میں نمائندگی موجود تھی ۔

گوجری شعرا:

بزم گوجری کے صدر عبدالرشید چودھری اور گوجر فاونڈیشن کے مرکزی ایگزیکٹو ممبر چودھری رفیق شاہدنے اپنے منفرد انداز میں گوجری میں نظم پیش کرتے ہوئے سامعین اور حاضرین سے خوب داد حاصل کرتے رہے۔

دورانِ خطابات اہم نِکات:

تمام مقررین نے اپنے اپنے خطاب کے دوران برادری کے ذہین طلباءو طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مبارکباد بھی پیش کی۔

ملک ابرار صاحب نے خطاب کے دوران بیٹیوں کی تعلیم پر بطور خاص توجہ دینے کی بات کی اور کہا کہ تعلیم یافتہ مائیں ہی تعلیم یافتہ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ انھوں نے صاحب حیثیت افراد سے اپیل کی کہ برادری کے ذہین بچوں کی بلاتفریق معاونت کریں۔ انھوں نے فاونڈیشن کے کام کر سرہاتے ہوئے قابل ستائش خدمات پر مبارکباد بھی دی۔ اس سلسلہ میں اپنے مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا۔

کرم حسین چودھری صاحب نے خطاب کے دوران برادری کے سیاستدانوں کو تاکید کی کہ وہ آگے بڑھیں اور جائز حقوق و انصاف کے حصول کے لیے برادری کی معاونت کریں۔

محترمہ مائزہ حمید نے خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین برادری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور تعلیم کے زریعے ہی ان میں اعتماد پیدا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ برادری ہی ہماری پہچان ہے اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسرڈاکٹر ریحانہ نے برادری کے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے جذبے کو سراہتے ہوئے تعلیم ہی کو ترقی کا زینہ قرار دیا۔ حکومتی پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی اہم نقطہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اتنی بڑی برادری جس کی اپنی زبان ہے، الگ پہچان رکھتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مردم شماری فارم میں مادری زبان والے پورشن میں گوجری کو شامل ہی نہیں کیا گیا؟۔ انھوں نے برادری کے حکومتی ارکان سے اس پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کی۔ فاونڈیشن کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود برادری کے ذہین طلباءکی حوصلہ افزائی کا جو بیڑا آپ نے اٹھایا ہے وہ حقیقی معنوں میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انھوں نے برادری کے مخیر حضرات سے بطور خاص درخواست کی کہ وہ آگے بڑھ کر فاونڈیشن کا دست و بازو بنیں۔

چیئرمین فاونڈیشن نے اپنے خطاب میں فاونڈیشن کی چار سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گوجر قوم ترقی کی راہوں پر گامزن ہو تو اس کے لیے آپ سب کووقت، مال اور صلاحیت کی قربانی پیش کرنا ہو گی۔

تقسیم ایوارڈ:

اس مرتبہ تقریباً 228ہونہار طلبہ و طالبات میں ایوراڈ تقسیم کیے گئے۔ 70 فیصد سے اوپر نمبرات حاصل کرنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ تقریب منعقد کی گئی تھی۔ میٹرک اور ایف اے، ایف ایس سی میں سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے والے بچوں کو اعزاز بخشتے ہوئے سٹیج پر ان کی نشستیں لگائی گئیں۔ اس سیشن میں سٹیج کی ذمہ داریاں زاہد کھٹانہ، سیکرٹری جنرل گوجر فاونڈیشن نے ادا کیں۔ مہمانان خصوصی اور ڈونرز کی موجودگی میں فاونڈیشن ممبران کی معاونت سے ایوارڈ تقسیم کیے گئے۔ تقسیم ایوراڈ کے دوران برادری کے سینئر زعما کو بھی باری باری سٹیج پر مدعو کرتے ہوئے ان کی معاونت سے ایوارڈ تقسیم کرائے گئے۔گوجر برداری کے چند سنئیر زعماءکو حسن کارکردگی کے پیش نظر ایوارڈ ز بھی تقسیم کیے گے۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والوںکے نام بذیل ہیں:

انٹر میڈیٹ :

سال دوئم:         جویریہ ولی۔ محمد شفقت حسین ۔ محمد عثمان

سال اول :         اولی فاطمہ ۔عبداللہ طفیل ۔ دانیال یاسر

میٹرک:

دہم :                فریال صدیق چوہدری (Topper آزادکشمیربورڈ )۔ محمد ریحان مقصود۔ عمارہ عطاالرحمن ۔

عفیفہ وسیم ۔ عریشہ بتول ۔ محمد معاز سرور

نہم :  محمد علی ۔ امبر یاسمین ۔ دانیال قیوم

تقریراور نعت میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے  نام بالترتیب بذیل ہیں:

تقریر:                1 ـ دانیال یاسر             2 ـ محسن عظیم              3 ـ جمشید حمید

نعت:                 1 ـ کائنات رفیق           2  ـ امرین اکرم          3 ـ عبدالوحید

 

اختتام:

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اور یوں یہ پُروقار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

 

 

جائزہ رپورٹ

عوامی آراءاور تجزیات کے مطابق گزشتہ تقریبات کی نسبت اس مرتبہ ٹیلنٹ ایوارڈ کا یہ پروگرام زیادہ منظم اور کامیاب رہا۔ پہلی مرتبہ اس ضمن میں ایک جائزہ رپورٹ کو روداد کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو اس روداد کو گزشتہ رودادوں سے منفرد بنا دیتی ہے۔ اس جائزہ رپورٹ کو تقریب کی روداد کا حصہ بنانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ممبران کی کاوشوں کا تحریری طور پر اعتراف کے ساتھ ساتھ ہر سال اپنی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے انھیں باضابطہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ ہی جائزہ رپورٹ کا خیال کیوں آیا؟ اس کا جواب اگر یوں دیا جائے کہ ٹیلنٹ ایوارڈ کی گزشتہ تین تقریبات کی نسبت یہ تقریب انتہائی کامیاب اور منظم رہی تو مناسب ہو گا۔ جائزہ کی شروعات اگر کامیابی کے پہلے زینے سے کی جائے تو ہمارے اندر اعتماد اور ایقان کے ماحول کو مزید استقامت میسر آئے گی۔ تقریب کی کامیابی کی جہاں دیگر اہم وجوہات ہیں وہاں ایک بنیادی اور اہم ترین وجہ یہ بنی کہ پہلی مرتبہ فاونڈیشن ممبران و آرگنائزر حضرات کے مابین ذمہ داریوں کا تحریری طور پر تعین عمل میں لایاگیا۔ اس عمل سے ٹیم ورک کے تاثر کو نہ صرف فوقیت حاصل رہی بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا جو تقریب کی کامیابی کے بنیادی نکتے کی حیثیت اختیار کر گیا۔

انفرادیت:

اس مرتبہ ذمہ داران کے مابین باقاعدہ ایک ورکنگ پلان تیار کیا گیا جس کی بدولت مثالی نظم و نسق پیدا ہوا۔ عوامی اور برادری سطح کی دیگر تقریبات میں ایسا ڈسپلن بالکل بھی دیکھنے میں نہیں ملتا۔ تحریری ورکنگ پلان اور ذمہ داران کا تعین بظاہر تو یہ عام سی بات سمجھی جا کر نظر انذاز کر دی جاتی ہے مگر جب گزشتہ تقریبات کا اس سال کی تقریب سے موازنہ کیا جائے تو یہ امر بخوبی عیاں ہو جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ماضی کی تقریبات کی نسبت یہ تقریب بہتر انتظامی امور کی بدولت منظم ادارے کی تقریب کی عکاس معلوم ہو رہی تھی۔ ذمہ داریاں پہلے بھی عائد ہوتی رہیں، خلوص اور جانثاری پہلے بھی کم نہ تھی، ورکنگ ریلیشن شپ کا عزم ہمہ وقت موجود رہا، ذمہ داریوں سے پہلو تہی بھی نظر نہیں آئی، باہمی تعاون کا فروغ شروع سے ہر سطح پر قائم رہا، ان سب عوامل کی موجودگی میں بھی اگر عوامی دلچسپی اور پذیرائی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے باضابطہ ورکنگ پلان کی تیاری، ورکنگ ٹیموں کا تعین اورموثر نگرانی کا عمل۔ اس کا سارا کریڈٹ چیئرمین صاحب کی ویژنری سوچ کے مطابق ہمارے ٹیم ورک اور احساسِ ذمہ داری کو جاتا ہے۔ اس ورکنگ پلان میں تقریب سے متعلقہ ہر ایونٹ کے لیے ایک ذمہ دار اور سینئر ممبر پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ٹیمیں تشکیل دیں گئیں اور پھر ان ٹیموں کی موثر نگرانی اور رہنمائی کے امور دو ممبران پر مشتمل انتظامی کمیٹی کے سپرد کر دی گئی۔

ورکنگ پلان اور ذمہ داران کی کارکردگی پر ایک نظر:

استقبالیہ کمیٹی: اس کمیٹی کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا جو عمومی، خصوصی، ڈونرز اور خواتین کی استقبالیہ ذمہ داریوں پر پوری کمٹمنٹ اور اخلاص مندی کے ساتھ مہمانان گرامی کی آمد اور رخصتی تک موجود رہا۔ اس گروپ میں شامل ہر ممبر اپنے شعبہ میں کمال مہارت اور جذبہ ایثار سے سرشار نظر آ رہا تھا۔ فاونڈیشن کے ان محبّان نے تقریب کے موقع پر مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ کامیاب تقریب کے انعقاد کے لیے برادری کے مخیر حضرات کے توسط سے گراں قدر زرِ تعاون مہیا کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ کامیابی کے اس سفر میں ہم نے ان سب کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروفِ عمل دیکھا۔

ان ممبران میں بلحاظِ استقبالیہ گروپس چودھری شفیق، اسلم چودھری، اے ۔ڈی چودھری و محمود آزاد، چودھری جمیل، بدر منیر و کرامت حسین، بشیر کسانہ، ندیم گوجر اور تین خواتین بذریعہ جاوید چوہان پر مشتمل تھا۔

کوآرڈینیٹر:

اس تقریب میں جاوید چوہان بطور کوآرڈینٹر اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے تھے جو استقبالیہ کمیٹی اور ہال منتظمین کے علاوہ آرگنائزرز سے مکمل رابطے میں رہے۔ ان کی ذاتی کاوشوں کے نتےجے میں تقریب میں آنے والے احباب کو دوران تقریب بہتر رہنمائی ملتی رہی۔

رجسٹریشن:

ابتدائی رجسٹریشن کے عمل میں محمد مقصود، ابرار حسین کی بڑی محنت شامل ہے۔ تقریب کے موقع پر محمد مقصود بدستور رجسٹریشن گروپ کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کی ٹیم میں سینئر اور تجربہ کار تین ممبران کا اضافہ فاونڈیشن کی نیک نامی کا سبب بنا۔ ان ممبران میں پروفیسر منیر سیفی ۔تاثیر احمد چودھری اور ذوالفقار چودھری شامل ہیں۔ آنے والے طلباءکی رجسٹریشن ایک طے شدہ ورکنگ پلان کے تحت انتہائی مہارت اور مستعدی سے دیتے رہے۔ کسی بھی موقع پر طلباءکو دشواری یا انتظار کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی ممبران رجسٹریشن کے عمل کی تکمیل پر ہال میں موجود مہمانان سے تجاویز و آراءاور کوائف لینے میں مشغول رہے۔ یہاں یہ امرہم سب کے لیے باعث مسرت ہو گا کہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں کے علاوہ رضاکارانہ طور پر ہر شعبہ میں اور بالخصوص تجاویز اور آراءکے حصول میں بدر منیر، سیکرٹری اطلاعات پیش پیش رہے۔

انتظامیہ/آرگنائزنگ کمیٹی:

ورکنگ پلان کو کامیاب اور موثر بنانے کے لیے اس مرتبہ انتظامی اور آرگنائزنگ امور سے متعلق چیئرمین صاحب کی خصوصی ہدایت پر دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ آرگنائزنگ کمیٹی میں عبدالمجید صدیقی اور زاہد کھٹانہ شامل تھے۔

اس کمیٹی کی ذمہ داریوں میں چیئرمین صاحب کی مشاورت سے ورکنگ پلان کی تیاری، ورکنگ ٹیم کی تشکیل، طلباءکی حتمی رجسٹریشن اور کم سے کم وقت میں تقسیم ایورارڈ کے مراحل سے گزرنے کے لیے پلان کی تیاری، سٹیج پر ہونے والی سرگرمیوں سمیت تمام شعبہ جات کی مکمل نگرانی اور ہمہ وقت چیئرمین فاونڈیشن کی مشاورت اور رہنمائی کے زریعے انتظامی امور کو موثر اور قابل عمل بنانا۔

تمام شعبہ جات نے اپنی بساط کے مطابق منظم اور تسلی بخش کام کیا۔ تقسیم ایوارڈ کے عمل میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ تقریب کے دوران طلباءہی ہمارے خصوصی مہمان ہوتے ہیں اگر انھیںہماری توجہ اور وقت کی کمی کا سامنا ہو تو ہمیں آئندہ سنجیدگی سے اس پہلو کو زیر نظر رکھنا ہو گا۔ ٹیلنٹ ایوارڈ کی ساری کامیابی اور ناکامی کا دارو مدار اسی سیشن پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ سیشن ہماری خصوصی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر بتدریج اس میں بہتری آ رہی ہے۔

مہمانان کی رہنمائی:

تقریب میں آنے والے مرد و خواتین کی رہنمائی کے لیے جاوید چوہان کو مامور رکھا گیا تھا۔ انھوں نے خواتین کی رہنمائی کے لیئے اپنے ساتھ تین خواتین ممبران کے زریعے احسن انداز میں فرائض انجام دیئے۔ اس سلسلہ میں استقبالیہ کمیٹی سے رابطہ کاری کو بھی یقینی بناتے رہے۔

ہال کے انتظامات:

کسی بھی تقریب کی کامیابی میں یہ امور انتہائی اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں۔ ہال کی تزئین و آرائش، سٹیج پر نشستوں کی ترتیب، بکس سٹال و رجسٹریشن ڈیسک کے انتظامات، پینے کی پانی کی فراہمی، تقسیم ایوراڈ اور شیلڈز مینجمنٹ کی تمام ذمہ داریوں کی حامل یہ ٹیم شفیق چودھری اور شہباز شفیع کی سربراہی میں باحسن ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں کامیاب ہوئی۔ پوری ٹیم کی بروقت امور کی انجام دہی قابل ستائش ہے۔

سٹیج:

سٹیج سیکرٹری کے فرائض شفیق الرحمان نے نہایت ہی مہارت اور ذمہ داری سے ادا کیے۔ انھیں آرگنائز کمیٹی کی مشاورت اور رہنمائی دستیاب رہی۔ تقریری مقابلہ کے دوران ہمارے سینئر ممبر  ایگزیکٹیو کونسل کرنل (ریٹائرڈ) بشارت علی کو ججوں کے تقرر کی اہم ذمہ داری کا اعزاز حاصل رہا۔اس سیشن کے دوران ابرار حسین گوجر نے میزبانی کے فرائض انتہائی احسن انداز میں انجام دیے جب کہ ایوارڈ کی تقسیم کے دوران زاہد محمود کھٹانہ اور عبدالمجید صدیقی سٹیج پر مامور رہے۔ اس طرح مجموعی طور پر سٹیج کی ساری ذمہ داریاں بخوبی انجام دی گئیں۔

سکیورٹی:

ہال کے اندر سٹیج پر سیکورٹی کے حوالہ سے پہلی مرتبہ گارڈز کی تعیناتی عمل میں آئی جس کی وجہ سے دوران تقریب سٹیج پر ہجوم کو کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیابی رہی۔ سکیورٹی کی تعیناتی کی ذمہ داری بھی جاوید چوہان نے بروقت نبھائی۔

سوشل میڈیا:

ویب سے متعلق جملہ امور کی نگرانی عتیق الرحمان چودھری بڑی مہارت سے انجام دے رہے ہیں۔ ویب کے جملہ کام کاج کی دیکھ بھال انہی کی ذمہ داری میں شامل ہے جسے وہ احسن انداز میں پورا کر رہےں ہیں۔

اس مرتبہ تقریب کی ساری کارروائی کو شہباز شفیع اور ان کی ٹیم نے بڑے خوبصورت انداز میں کوَر کیا۔ پہلی مرتبہ فاونڈیشن کی لائیو کوریج کا انتظام بھی شہباز شفیع نے نہایت مہارت اور محنت سے کیا۔ انھوں نے ہال کی تزئین اور ہال سے باہر بینرز، پینا فلیکس آویزاں کرنے میں بھی سرعت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ تقریب سے قبل پنڈی شہر کے مختلف مقامات پر دن رات ایک کر کے فاونڈیشن کے تمام لوکل ساتھیوں نے پوسٹرز، بینرز آویزاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کی۔ تقریب کی تمام تر کوریج، فوٹو سیشن کمال مہارت کی عکاسی کر رہی تھی۔ تقریب سے قبل ابرار حسین گوجر سمیت دیگر ممبران نے سوشل میڈیا کے حوالے سے گراں قدر خدمات کا پیش کیں۔

قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ تقریب کے تشہیری عمل میں چیئرمین فاونڈیشن عام کارکن کی طرح پیش پیش رہے۔ ان کا یہ عمل باقی ممبران کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

پریس و پرنٹنگ:

چودھری اسلم فاونڈیشن ممبر نے شیلڈز کی تیاری، طلباءکے بیجز، ممبران و عہدیدارن کے کارڈز اور ہر قسم کے بینرز کی تیاری میں بہت محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔ بروقت اپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری ان کی ذاتی دلچسپی کی علامت ہے۔

 

 

کوائف و تجاویز:

اس مرتبہ بھی حاضرین سے رابطہ کاری کے لیے ایک فارم کے زریعے رابطہ نمبرز اور کوائف حاصل کیے گئے۔ اس مرتبہ موقع پر ہی ہال میں موجود تمام افراد سے انفرادی طور پر تحریری تجاویز اور آراءحاصل کی گئیں۔ بظاہر اس ذمہ داری پر رجسٹریشن ٹیم مامور تھی مگر بدر منیر سیکرٹری اطلاعات کی مہارت اور رضاکارانہ خدمات کے پیش نظر یہ عمل بخوبی انجام پذیر ہوا۔

تقسیم ایوارڈز:

اس مرتبہ ایوارڈ کی تقسیم کے پلان کوایک خاص حکمت عملی کے تحت ترتیب دیا گیا تھا۔ طلباءکے گروپس بنا دیے گئے، انھیں رجسٹریشن کے عمل میں انتظار کی اذیت سے بچنے کے لیے سیریل نمبرزالاٹ کر دیے گئے، جن کی مدد سے ایوارڈ لیتے وقت قطار بندی کا عمل نہایت ہی مختصر وقت میں مکمل ہوتا رہا۔

وقت کی کمی کے باعث ایک ایک سٹوڈنٹ کا نام لے کر شیلڈ دینے کی حکمت عملی کا اس بار بھی فقدان رہا جس کی وجوہات کا انتظامی امور سے تعلق کم اور مہمانان خصوصی کی تاخیر سے آمد کا عمل دخل زیادہ ہے۔

اس بار خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ تقسیم ایوارڈ کے موقع پر مہمان خصوصی کے ساتھ فاونڈیشن ممبرز، ڈونرز کی معاونت اور موجودگی کو یقینی بنایا جائے جس میں ہم سرخرو رہے۔ اس عمل سے جہاں ڈونرز اور فاونڈیشن ممبران کی خدمات کا اعتراف کیا گیا وہاں ان کے مزید کام کرنے کے جذبے کو بھی پذیرائی ملی۔

مہمانان خصوصی کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی کے حامل افراد کو گوجر فاونڈیشن کی جانب سے شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔

ڈونیشن :

ٹیلنٹ ایوارڈ کی گزشتہ تقریب پر اٹھنے والے تقریبا تمام اخراجات   سیکرٹری فنانس گوجرفاونڈیشن کرامت حسین گوجر کے زیر انتظام ہوئے ۔ جبکہ اس بار اِن سمیت  فاونڈیشن کے دیگر ممبران  جن میں عطا الرحمن چوہان، بدرمنیر ، حنیف چوہدری،  کرنل ریٹائرڈ  بشارت علی، چوہدری جمیل الدین ، عبدالمجید صدیقی، زاہد کھٹانہ ، جاوید چوہان، محمد مقصود گوجر،  شفیق الرحمن, فاروق بیٹن، بشیر کسانہ،قاری   افتخار ، منیر سیفی  اور  عبدالروف کالوخیل اور دیگر ممبران کی گراں قدر مالی اعانت کے سبب یہ تقریب انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

 

 

ضیافتی امور:

ہر سال کی طرح خالد چودھری اور ان کی ٹیم نے انتہائی پرامن اور منظم طریقے سے تقریب کے شرکاءکو لذیذ کھانے کے زریعے اُن کے مزاج میں فرحت بخش تازگی دوبالا کرنے میں قابل ستائش کردار ادا کیا۔ خواتین و حضرات ان کی ضیافت سے نہ صرف سیرہوئے بلکہ حقیقی معنوں میں لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔

 

 

روداد تقریب ٹیلنٹ ایوارڈ2015 بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

روداد تقریب ٹیلنٹ ایوارڈ20015

بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

زیر اہتمام گوجر فاؤنڈیشن پاکستان (رجسٹرڈ)    رپورٹ: عبدالمجیدصدیقی

تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ فزائی فروغ علم کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس سے جہاں ہونہار طلبہ کی عزت افزائی ہوتی ہے وہاں عام طلبہ کو تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ آج معیار تعلیم ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔صرف بیس فیصد طلبہ و طالبات بمشکل ساٹھ فیصدتک نمبر حاصل کرپاتے ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ تناسب اور بھی زیادہ قابل توجہ ہے۔گوجرفاونڈیشن پاکستان ہر سال امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے ٹیلنٹ ایوارڈ کا اہتمام کرتی ہے۔گزشتہ دنوں میٹرک اور ایف اے/ایف ایس سی کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کے حامل طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ٹیلنٹ ایوارڈ2015 کا اہتمام کیا گیا۔جس میں راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرخان، جہلم، آزادجموں وکشمیر ،ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام،صوابی، مردان، دیر اور گلگت کے 125 طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کی گئی تھی۔ دیہی تعلیمی اداروں میں گورنمنٹ ہائی سکول پریم کورٹ ضلع مظفرآباد کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ اس کے ۸ طلبہ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریب میں حاجی جاوید اقبال بڈھانوی، وزیر خوراک،آزادکشمیر،بریگیڈئیر(ر) شاہدمحمود چوہدری (لاہور)، صاحبزادہ ذوالفقار مشیر وزیراعظم آزادکشمیر، مشتاق حسین برگٹ چیئرمین میاں محمد ٹرسٹ جہلم، ڈاکٹر توقیر احمد(امریکہ) ، مولاناعبدالمجیدہزاروی اور سینکڑوں خواتین و حضرات شریک تھے۔مہمانان نے باری باری اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں شیلڈز تقسیم کیں۔طلبہ کو حوصلہ افزائی ایوارڈ دینے والوں میں پروفیسرممتاز حسین محمدی،چوہدری زاہد حسین، جوائنٹ سیکرٹری، چوہدری گفتاراحمد ڈپٹی کمشنر،چوہدری سہیل مہدی، چوہدری جمیل الدین، ڈاکٹر غلام رسول گورسی، اے۔ڈی چوہدری، پروفیسر ارشدنواز، چوہدری محمد فرقان، پروفیسر سجادقمر،عبدالمجید صدیقی، زاہدمحمودکھٹانہ، ذوالفقار احمد چوہدری،پروفیسر منیرسیفی،میجر (ر)عبدالحفیظ سابق مشیرآزادکشمیر، چوہدری عبدالوحید پرنسپل ایلیمنٹری کالج، پروفیسر محمد اکرم بانٹھ شامل تھے۔

جاویداقبال بڈھانوی وزیر خوراک آزادکشمیر نے کہا کہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس ٹیلنٹ کو بروئے کارلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہاں حاضری ایک اعزاز ہے لیکن مجھے خوشی اس امر کی ہورہی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے نامور تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ساتھ مری،گوجرخان، جہلم،آزادکشمیر، ہزارہ اور مالاکنڈڈویژن جیسے پسماندہ اور دیہی علاقوں کے طلبہ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا ہے ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ جن طلبہ نے محنت کی ہے وہ پورے معاشرے میں نکھر کر سامنے آگئے ہیں۔ جن کی اکثریت غریب گھرانوں سے ہے۔ یہی بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کیا کرنی بلکہ انہوں نے ہمارے حوصلے بلند کیے ہیں۔

بریگیڈئیر(ر)شاہدمحمود چوہدری نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایک بہترپاکستان کی تعمیر میں شریک ہیں۔ آج اس چھت تلے ہونہاربچوں اور بچیوں کا جم غفیرپرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تعلیمی اداروں کی بدحالی کے باوجودبچوں کی کارکردگی امید کی ایک کرن ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کرنا ہے۔ اگر یہ ہیرے وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ گئے تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔

میاں محمدٹرسٹ کے بانی چیئرمین مشتاق برگٹ نے کہا کہ ان محنتی اور ہونہار بچوں کے درمیان کھڑا ہونا میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں آج مستقبل کے معماران کے درمیان موجود ہوں اور بچوں کی کارکردگی باالخصوص دیہی علاقوں سے ابھرنے والے ٹیلنٹ نے ثابت کردیا ہے کہ ہماری آئندہ نسل ستاروں پر کمند ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صاحبزادہ ذوالفقارمشیر حکومت آزادکشمیر نے کہا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن یہاں انہوں نے ہمیں حوصلہ دیا ہے۔ دور، درازپسماندہ علاقوں کے بچوں نے فقیدالمثال کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ہمارے سر فخر سے بلند کردئیے ہیں۔اب اس ٹیلنٹ کو آگے بڑھانا اورعلم، تحقیق اور فنون میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

مولانا عبدالمجید ہزاروی نے کہا کہ علم مومن کی میراث ہے۔ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ نے بہترین انسانی وسائل مہیا کیے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی صلاحیتوں کے نکھار کے لیے مواقع فراہم کرے۔دیہی علاقوں سے ساٹھ فیصد اور شہری علاقوں سے اسی فیصد نمبر حاصل کرنے والے بچوں کے تعلیمی مصارف حکومت کو برداشت کرنے چاہیے تاکہ یہ روشن ستارے حالات کے جبر کا شکار ہونے کے بجائے علم و تحقیق کی بلندیوں کو چھو سکیں اور ایک ترقیافتہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔

گوجرفاونڈیشن کے بانی چیئرمین عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ ہونہارطلبہ کی تلاش، تعمیر اور نشوونما ہی روشن پاکستان کی ضمانت ہے۔ہمارا معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں جھکڑا ہوا ہے اورفرسودہ نظام تعلیم اور ویژن سے عاری تعلیمی ادارے طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ذہانت کا قتل عام کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے باوجود جو بچے ان تعلیمی قتل گاہوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت ہے۔ انہیں بہترین تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کی خوابوں کو عمل کی صورت دینے کے لیے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ گوجر فاونڈیشن نے اسی ویژن کے تحت گلی محلوں، گاؤں اور قریوں سے ذہین بچوں کو تلاش کرکے اس ہال میں جمع کیا ہے کہ ہم انہیں عظیم الشان مستقبل کی تعمیر کی راہیں دکھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلنٹ ہمیں پسماندگی، غربت، جہالت اور ناانصافی کے اندھیروں سے عزت، توقیر اور امن و انصاف کی طرف لے جانے کی واحد سبیل ہے۔ اگر ہم انہیں حصول علم کی شاہراہ پر گامزن کرسکے تو اپنے مستقبل کو سنوار لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ٹیلنٹ ضائع ہوگیا تو ہم اپنے مستقبل کو گنوا دیں گے۔عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ گوجر فاونڈیشن قبیلے ، برادری، علاقے اور رنگ کی تمیز کے بغیر ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی پر یقین رکھتی ہے، جس کا اظہار اس چھت تلے ہر علاقے، ہر نسل اور ہر رنگ کے طلبہ و طالبات کی موجودگی ہے۔

Registration Form – for Talent Award 2016