روداد تقریب ٹیلنٹ ایوارڈ20015 بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

روداد تقریب ٹیلنٹ ایوارڈ20015

بمقام راولپنڈی آرٹ کونسل

زیر اہتمام گوجر فاؤنڈیشن پاکستان (رجسٹرڈ)    رپورٹ: عبدالمجیدصدیقی

تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ فزائی فروغ علم کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس سے جہاں ہونہار طلبہ کی عزت افزائی ہوتی ہے وہاں عام طلبہ کو تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ آج معیار تعلیم ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔صرف بیس فیصد طلبہ و طالبات بمشکل ساٹھ فیصدتک نمبر حاصل کرپاتے ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ تناسب اور بھی زیادہ قابل توجہ ہے۔گوجرفاونڈیشن پاکستان ہر سال امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے ٹیلنٹ ایوارڈ کا اہتمام کرتی ہے۔گزشتہ دنوں میٹرک اور ایف اے/ایف ایس سی کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کے حامل طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ٹیلنٹ ایوارڈ2015 کا اہتمام کیا گیا۔جس میں راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرخان، جہلم، آزادجموں وکشمیر ،ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام،صوابی، مردان، دیر اور گلگت کے 125 طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کی گئی تھی۔ دیہی تعلیمی اداروں میں گورنمنٹ ہائی سکول پریم کورٹ ضلع مظفرآباد کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ اس کے ۸ طلبہ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریب میں حاجی جاوید اقبال بڈھانوی، وزیر خوراک،آزادکشمیر،بریگیڈئیر(ر) شاہدمحمود چوہدری (لاہور)، صاحبزادہ ذوالفقار مشیر وزیراعظم آزادکشمیر، مشتاق حسین برگٹ چیئرمین میاں محمد ٹرسٹ جہلم، ڈاکٹر توقیر احمد(امریکہ) ، مولاناعبدالمجیدہزاروی اور سینکڑوں خواتین و حضرات شریک تھے۔مہمانان نے باری باری اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں شیلڈز تقسیم کیں۔طلبہ کو حوصلہ افزائی ایوارڈ دینے والوں میں پروفیسرممتاز حسین محمدی،چوہدری زاہد حسین، جوائنٹ سیکرٹری، چوہدری گفتاراحمد ڈپٹی کمشنر،چوہدری سہیل مہدی، چوہدری جمیل الدین، ڈاکٹر غلام رسول گورسی، اے۔ڈی چوہدری، پروفیسر ارشدنواز، چوہدری محمد فرقان، پروفیسر سجادقمر،عبدالمجید صدیقی، زاہدمحمودکھٹانہ، ذوالفقار احمد چوہدری،پروفیسر منیرسیفی،میجر (ر)عبدالحفیظ سابق مشیرآزادکشمیر، چوہدری عبدالوحید پرنسپل ایلیمنٹری کالج، پروفیسر محمد اکرم بانٹھ شامل تھے۔

جاویداقبال بڈھانوی وزیر خوراک آزادکشمیر نے کہا کہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس ٹیلنٹ کو بروئے کارلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہاں حاضری ایک اعزاز ہے لیکن مجھے خوشی اس امر کی ہورہی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے نامور تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ساتھ مری،گوجرخان، جہلم،آزادکشمیر، ہزارہ اور مالاکنڈڈویژن جیسے پسماندہ اور دیہی علاقوں کے طلبہ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا ہے ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ جن طلبہ نے محنت کی ہے وہ پورے معاشرے میں نکھر کر سامنے آگئے ہیں۔ جن کی اکثریت غریب گھرانوں سے ہے۔ یہی بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کیا کرنی بلکہ انہوں نے ہمارے حوصلے بلند کیے ہیں۔

بریگیڈئیر(ر)شاہدمحمود چوہدری نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایک بہترپاکستان کی تعمیر میں شریک ہیں۔ آج اس چھت تلے ہونہاربچوں اور بچیوں کا جم غفیرپرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تعلیمی اداروں کی بدحالی کے باوجودبچوں کی کارکردگی امید کی ایک کرن ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کرنا ہے۔ اگر یہ ہیرے وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ گئے تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔

میاں محمدٹرسٹ کے بانی چیئرمین مشتاق برگٹ نے کہا کہ ان محنتی اور ہونہار بچوں کے درمیان کھڑا ہونا میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں آج مستقبل کے معماران کے درمیان موجود ہوں اور بچوں کی کارکردگی باالخصوص دیہی علاقوں سے ابھرنے والے ٹیلنٹ نے ثابت کردیا ہے کہ ہماری آئندہ نسل ستاروں پر کمند ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صاحبزادہ ذوالفقارمشیر حکومت آزادکشمیر نے کہا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن یہاں انہوں نے ہمیں حوصلہ دیا ہے۔ دور، درازپسماندہ علاقوں کے بچوں نے فقیدالمثال کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ہمارے سر فخر سے بلند کردئیے ہیں۔اب اس ٹیلنٹ کو آگے بڑھانا اورعلم، تحقیق اور فنون میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

مولانا عبدالمجید ہزاروی نے کہا کہ علم مومن کی میراث ہے۔ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ نے بہترین انسانی وسائل مہیا کیے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی صلاحیتوں کے نکھار کے لیے مواقع فراہم کرے۔دیہی علاقوں سے ساٹھ فیصد اور شہری علاقوں سے اسی فیصد نمبر حاصل کرنے والے بچوں کے تعلیمی مصارف حکومت کو برداشت کرنے چاہیے تاکہ یہ روشن ستارے حالات کے جبر کا شکار ہونے کے بجائے علم و تحقیق کی بلندیوں کو چھو سکیں اور ایک ترقیافتہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔

گوجرفاونڈیشن کے بانی چیئرمین عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ ہونہارطلبہ کی تلاش، تعمیر اور نشوونما ہی روشن پاکستان کی ضمانت ہے۔ہمارا معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں جھکڑا ہوا ہے اورفرسودہ نظام تعلیم اور ویژن سے عاری تعلیمی ادارے طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ذہانت کا قتل عام کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے باوجود جو بچے ان تعلیمی قتل گاہوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت ہے۔ انہیں بہترین تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کی خوابوں کو عمل کی صورت دینے کے لیے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ گوجر فاونڈیشن نے اسی ویژن کے تحت گلی محلوں، گاؤں اور قریوں سے ذہین بچوں کو تلاش کرکے اس ہال میں جمع کیا ہے کہ ہم انہیں عظیم الشان مستقبل کی تعمیر کی راہیں دکھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلنٹ ہمیں پسماندگی، غربت، جہالت اور ناانصافی کے اندھیروں سے عزت، توقیر اور امن و انصاف کی طرف لے جانے کی واحد سبیل ہے۔ اگر ہم انہیں حصول علم کی شاہراہ پر گامزن کرسکے تو اپنے مستقبل کو سنوار لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ٹیلنٹ ضائع ہوگیا تو ہم اپنے مستقبل کو گنوا دیں گے۔عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ گوجر فاونڈیشن قبیلے ، برادری، علاقے اور رنگ کی تمیز کے بغیر ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی پر یقین رکھتی ہے، جس کا اظہار اس چھت تلے ہر علاقے، ہر نسل اور ہر رنگ کے طلبہ و طالبات کی موجودگی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>